کرشنا سوبتی

کرشنا سوبتی ہندی زبان کی اہم افسانہ نگار، مضمون نگار اور مصنفہ تھیں۔ انہوں نے اپنے ناول زندگی نامہ کے لیے 1980ء میں ساہتیہ اکیڈمی اعزاز حاصل کیا اور 1996ء میں اکادمی کا سب سے بڑا اعزاز (ساہتیہ اکادمی فیلوشپ) حاصل کیا۔ ہندوستانی ادب کی خدمت کے سلسلے میں 2017ء میں ان کو گیان پیٹھ انعام سے نوازا گیا۔ سوبتی کا شاہکار ان کا 1966ء میں لکھا گیا ناول مترو ماراجانی ہے۔ انہیں 1999ء میں پہلا کاتھا چودامانی حاصل زیست اعزاز برائے ادب ملا۔ اس کے علاوہ انہیں 1981ء میں شیرومنی اعزاز، 1982ء میں ہندی اکیڈمی اعزاز اور شلاکا ہندی اکیڈمی، دہلی اعزاز سے نوازا جا چکا ہے۔ کے کے برلا فاونڈیشن کی جانب سے انہیں ان کے ناول سمے سرگم کے لیے ویاس سمان اعزاز کے لیے 2008ء میں منتخب کیا گیا۔ کرشنا سوبتی کو ہندی ادب کی گرانڈے ڈیم (grande dame) بمعنی عظیم خاتون کہا جاتا ہے۔ ان کی ولادت گجرات، پنجاب   (پاکستان)میں ہوئی؎ ۔ ان کے دیگر ناولوں میں دار سے بچھوری، سروج مکھی اندھیرے کے، یاروں کا یار، زندگی نامہ ہیں۔ ان کے مشہور افسانوں میں نفیسہ، سکہ، بادل گیا، بادلوں کے گھیرے ہیں۔ ان کی تخلیقات کا ایک مجموعہ سوبتی ایکا سوہابتا کے نام سے شائع ہوا ہے۔ ان کی تخلیقات انگریزی اور اردو میں دستیاب ہیں۔ 2005ء میں دل و دانش کو ریما آنند اور میناکشی سوامی نے انگریزی میں ہرٹ ہیز اٹس ریزنس کے نام سے ترجمہ کیا اور بھارتی ترجمہ نگاری میں اس کتاب کو کراس ورڈ اعزاز سے نوازا گیاان کی تخلیقات کا سویڈش، روسی اور انگریزی سمیت متعدد زبانوں میں ہو چکا ہے۔  کرشنا سوبتی کی پیدائش 18، فروری 1925ء کو گجرات میں ہوئی۔ تقسیم کے بعد وہ دار الحکومت دلی منتقل ہو گئی اور وہاں کی شہریت اختیار کر لی۔ دلی میں سکونت پزیر ہونے کے بعد سے مستقل ادب کی خدمت کرتی رہی۔ ان کو ساہتیہ اکادمی کی جانب سے دو اعزاز ملے اور ایک گیان پیٹھ کے اعزاز سے نوازا گیا۔ کرشنا سوبتی کی لکھی ہوئی کہانیوں میں خاص طور پر زندگی نامہ، مترو مرجانی، بادلوں کے گھیرے اور سوبتی ایک صحبت قابل ذکر ہیں۔ 25، جنوری 2019ء کو ایک نجی ہسپتال میں طویل علالت کے بعد کرشنا سوبتی کی وفات پا گئیں۔